Saturday, November 29, 2014

میڈیا پر پیسے کھانے کا الزام! حقیقت حال کیا ہے

میڈیا پر پیسے کھانے کا الزام! حقیقت حال کیا ہے
عمران خان نے تابڑ توڑ الزامات لگانے کی اپنی خو کو قائم رکھتے ہوئے اس بار ذرائع ابلاغ کو اپنا ہدف بنایا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے فنڈ سے دو ارب روپے کی رقم تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنے کیلئے میڈیا کو فراہم کی۔ حسب عادت عمران خان نے نہ تو کسی کا کھل کرنام لیا اور نہ ہی اپنے الزام کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے کسی قسم کا کوئی ثبوت فراہم کیا ۔
یہ عمران خان کا ایک  دلپسند مشغلہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین پر الزامات لگاتے ہیں اور ان الزامات کا نہ کوئی ثبوت پیش کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے  الزام کےجھوٹا ثابت ہوجانے پر کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ان پر قائم رہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ نہ تو کسی قسم کے اخلاقی تقاضوں کی پروا کرتے ہیں اور نہ ہی  اس عادت کے باعث اپنی گرتی ہوئی ساکھ کا ادراک کرپاتے ہیں۔ عمران خان کی یہ عادت انہیں اب سے نہیں بلکہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل شرمندہ کرتی آ رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہیں شرم وغیرہ جیسی چیزوں سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا ہے۔ ماضی میں عمران خان ملک کی انتہائی محترم شخصیت متحدہ قومی موونٹ کے قائد الطاف حسین پر نہ صرف الزامات لگاتے رہے بلکہ ان الزامات پر اصرار کرتے ہوئےانہیں عدالتوں میں سچ ثابت کرنے کے دعوے بھی کرتے رہے لیکن نہ تو وہ اپنے دعوؤں کو ہی ثابت کر سکے اور نہ ہی انکے جھوٹا ثابت ہونے پر کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار کرنے کی اخلاقی جراءت ہی اپنے اندر پیدا کر سکے ۔ شائد انکی مرضی ہی نہ تھی کہ وہ اپنے اندر ایسی کسی چیز کو پیدا ہونے دیں ۔
دوسروں پر الزام لگانےوالے عمران خان کو ماضی کی کئی باتیں یاد ہیں جن میں ورلڈکپ میں پاکستان کی فتح بھی شامل ہے جسے وہ انتہا درجے کی ڈھٹائی کے ساتھ اپنےذاتی کارنامے کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔  لیکن وہ بہت سی باتیں بھول بھی جاتے ہیں جنہیں یاد دلانا ضروری ہے۔ انہیں یاد ہونا چاہئے کہ اپنے کرکٹ کے زمانے میں ان پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگا تھا اور یہ الزام لگانے والے نے لگی لپٹی نہیں رکھی تھی بلکہ کھل کر عمران خان کا نام لیا تھا۔ اس کی پاداش میں عمران خان نے جو اس وقت بھی اتنے ہی ڈکٹیٹر ہوا کرتے تھے جتنے آج ہیں   بجائے اسکے کہ ان الزامات کا دفاع کرتے اس بہترین کھلاڑی اور انتہائی معصوم شخص کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا تھا اور اس کا کرکٹ کیریئر تباہ کر دیا تھا ۔
شائد عمران خان اس بات کو بھی بھلا دیتے ہیں کہ ان پر ایک خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے اور اس تعلق کے نتیجے میں ایک بچی کا باپ بننے کا الزام بھی ہے اور جو ایک ایسے ملک کی عدالت نے درست قرار دیا ہے جس کا عدالتی نظام بہر حال ہمارے عدالتی نظام سے بدرجہا بہتر ہے۔ عمران خان نے اس الزام کا کبھی بھی عدالت میں جا کر دفاع نہیں کیااور نہ ہی کبھی وجہ بتائی کہ آخر وہ کیوں اس الزام کے خلاف عدالت میں پیش نہیں ہورہے ہیں۔
یہاں ہم عمران خان میں پائی جانے والی ایسی ہی دوسری کئی'خوبیوں' کا ذکر نہیں کریں گے لیکن اس دفعہ جو الزام انہوں نے میڈیا پر لگایا ہے اس کا جائزہ ضرور لیں گے۔  عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کو دو ارب روپے کی رقم  عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کیلئے فراہم کی ہے۔ انہوں کہا کہ یہ رقم صحافیوں اورمیڈیا ہاؤس مالکان کو ادا کی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ کالم نویسوں، صحافیوں، اینکرز اور تجزیہ کاروں وغیرہ کو رقوم دے کر ان سے حکومت کے حق میں اور عمران خان کے خلاف  کالم تحریر کروائے جایئں، ٹی وی چینلز پر تجزیہ کرنے والوں سے مخالفانہ تجزیئے کروائے جایئں، اینکرز سے حسب مرضی کام لیا جائے تاکہ عمران خان کی جدوجہد کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ سادہ سے الفاظ میں صحافی برادری پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نےرقم لیکر اپنے ضمیر فروخت کردیئے ۔
ہمیں یہاں یہ دیکھنا ہے کہ آیا صحافی واقعی ضمیر فروشی کرتے ہیں یا یہ الزام ہی ہے! افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صحافیوں کی ایک بہت بڑی تعدادکے دیانتدار ہونے کے باوحود اس برادری پر ان لوگوں کا غلبہ ہے جن کی تعداد تو کم ہے لیکن یہ اپنے ضمیر بڑی آسانی سے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ بڑی خوشی سے فروخت کردیا کرتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جو اپنے اوپر برائے فروخت کا کتبہ ہمیشہ سجا کر رکھتے ہیں اور اسے بھی کاروبار کا ایک حصہ ہی سمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنے دعوے کے ثبوت کیلئے کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ اخبارات اور ٹی وی کے پروگرام اپنے خلاف آپ ثبوت ہیں۔ آپ کی توجہ کیلئے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ ان دنوں جنگ گروپ اور عمران خان کے درمیان جنگ چل رہی ہےلیکن اس سب کے باوجود اگر غور کریں تو اب بھی جیو ٹی وی اور جنگ اخبار دونوں ہی عمران خان کو اسکے جثے سے بڑا حصہ دے رہے ہیں۔جس ٹی وی چینل پر  اور اسکے متعلقہ اخبار میں کچھ دانشور بلکہ انہیں دانشخور کہنا زیادہ مناسب ہوگااس بات پر اعتراض کررہے ہوتے ہیں کہ  ایک لیڈر کے ایک ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس اور خطابات براہ راست نشر کئے جاتے ہیں  وہ اس وقت آنکھیں میچ کر رکھتے ہیں جب انکے ہی دفاتر پر پتھراؤ کرنے والےاور انہیں ہی گالیاں دینے والے ، فرعون کا خطاب دینے والے  خان صاحب  کو اتنی زیادہ کوریج دی جاتی ہے کہ جس کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہوگا تو  عوام نابینا تو نہیں ہیں اور نہ ہی عقل سے کورے ہیں کہ یہ بات نہ سمجھ پایئں گے کہ اندرون خانہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور پیسے کی خاطر گالیاں کھاکر بے مزہ نہیں ہوتے۔
کچھ ٹی وی چینلزاور چند صحافی تو اپنی اس گھٹیا حرکت میں اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ اب  انہوں نے اپنی لغت میں سے غیرت، حمیت جیسے الفاظ کو متروک قرار دے کر نکال باہر کیا ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک وہ بھی ہیں جن کے چینل پردہشتگردوں نے حملے کئے تو بجائے ثابت قدم رہ کر  حق پرست صحافت کی اعلی مثال قائم کرنے کے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دوزانو ہوکر معافی مانگ کر یہ وعدہ کر بیٹھے کہ ہم آپ کو آپکی  حسب مرضی کوریج دیں گے۔
اگر ہم  بکاؤصحافیوں کی  فہرست بنانے بیٹھیں تو یہ فہرست اتنی طویل ہوگی کہ نہ تو ہمارے لئے اسے ضبط تحریر میں لانا آسان ہوگا اور نہ قاری کیلئے اسے ایک یا دو نشستوں  میں پورا ملاحظہ کرلینا ہی ممکن ہوگا۔ اس لئے  بہتر یہی ہے کہ غور سے ٹی وی چینلز پر ہونے والے پروگرام دیکھیں، ان کے میز بانوں کے رویئے، ان کے الفاظ اور جملوں کے استعمال کو غور سے پرکھیں ، ان کا موازنہ انکے پچھلے پروگراموں سے  کریں اور یہ دیکھیں کہ یہ پروگرام کسی اور مہمان کے ساتھ کس طرح کیا جاتا ہے تو آپ پر خود ہی بہت سی باتیں کھلتی چلی جایئں گی۔ اور ان سب کا اگر آپ بغور تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالنے میں بھی کامیاب ہوئے تو وہ نتیجہ بس ایک ہی ہوگا کہ یہ صحافی اور یہ انکے ادارے صرف  اور صرف پیسے کے بجاری ہیں۔ پیسے دو ،کوریج لو اور جتنا گڑ ڈالتے جاؤ اتنا میٹھا ہوتا جائے گا۔

Monday, November 24, 2014

دھشتگردی کے خلاف جنگ میں ایم کیو ایم کا کردار اور تنگ نظر صحافت


الحمد اللہ قحط الرجال کے اس دور میں بھی ہمارے ملک میں ایسے  دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو دہشتگردی کے خلاف اپنے قلم کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر نا صرف خوشی ہوتی ہے بلکہ ایک گونہ اطمینان بھی ہوتا ہے۔  لیکن افسوس  کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں کئی دانشور ایسے بھی  ہیں جو دہشتگردی کے خلاف لکھے گئے اپنے  کالم یا مضامین میں دہشتگردی کے خلاف ایم کیو ایم کے کردار کو جان بوجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگر ایک مشترکہ دشمن کا سامنا کرتے ہوئے بھی ہم اپنی پسند اور ناپسند کا خیال رکھتے رہے اور تنگ نظری سے کام لیتے رہے تو ہم تو شائد کبھی کامیاب نہ ہو سکیں لیکن دشمن ضرور ہم پر حاوی ہوجائے گا ۔ ہم ایسے تمام صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور کالم نویسوں سے گذارش کریں گے کہ وہ اپنی تحریروں میں دہشتگردی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے کردار کو  ضرور سراہیں۔
ایسے تمام لکھنے والے اور ٹی وی چینلز پر تجزیہ کرنے والے صحافیوں کو یہ بات بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف سب سے توانا اور بلند آواز متحدہ قومی مومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین  کی ہی رہی ہے ۔ انہیں یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ  اس آواز کو بلند کرنے کی پاداش میں ایم کیو ایم کو اپنے کارکنان، ووٹروں اور اپنے حامی عوام کے جان و مال کےناقابل تلافی نقصانات برداشت کرنےپڑے ہیں۔ گذشتہ انتخابات کے موقعے پر متحدہ قومی موومنٹ کو انتہائی مشکل حالات میں اپنی  انتخابی مہم چلانا پڑی اوردہشتگردوں نے اسکے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنایا اور کئی کارکنان کو شہید کردیا گیا۔ آفرین ہے متحدہ کے کارکنان اور عوام کو جو اس کے باوجود دہشتگردی کے خلاف ڈٹے رہے اور انہوں نے ان   دہشتگردوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا۔
یہ تمام واقعات ملکی وغیر ملکی ذرائع ابلاغ پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں لہذا  ان سے صرف نظر کرنے سےاپنا قد تو کم کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے متحدہ کے دہشتگردی کے خلاف کردار کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اور ایسی کوئی  دانستہ یا نا دانستہ کوشش ان دہشتگردوں کو ہی بڑھاوا دینے کا سبب بن سکتی ہے جس کا نتیجہ کسی ایک کو نہیں بلکہ اس پوری قوم کو بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر آنے والی کئی نسلوں کو بھگتنا ہوگا جن میں ان لوگوں کے بھی بچے شامل ہونگے جو دہشتگردی کی جنگ میں تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کے کردار کو کم  کرکےاور کسی کے کردار کو بڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔ لہذا یہ ہمارا آپ کا اور ہم سب کا فرض ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ کو مکمل یکجہتی کے ساتھ اور آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لڑیں تاکہ کام یابی بالآخر ہمارا مقدر ہو۔
ایک اور بات جو بہت ضروری ہے وہ یہ کہ دہشتگردی کے خلاف ذرائع ابلاغ کو اپنا مصلحت پسندانہ رویہ ترک کردینا چاہئے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ دہشتگردوں کی سرپرستی کررہا ہے تو اسکے خلاف تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس گروہ یا شخص کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ ایسے گروہوں کے حق میں کسی بھی تحریر و تقریر کو ہرگز اپنے اخبار یا چینل پر جگہ نہیں دینی چاہئے اور کھل کر انکی مذمت کی جانی چاہئے اور نہ ہی انکے نقطہ نظر کو ذرائع ابلاغ میں جگہ ملنی چاہئے۔ ہم ماضی میں بھی دیکھتے رہے ہیں اور اب بھی دیکھ رہے ہیں کہ جماعت اسلامی نے نہ صرف دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو اپنی صفوں میں جگہ دی بلکہ اپنی تحریر و تقاریر میں انکی کارروایئوں کی کھل کو حمایت بھی کرتی رہی۔ اس جماعت نے اپنے گھروں میں انہیں پناہ دی،  غیر انسانی سرگرمیوں کیلئے انہیں اپنا  بھرپور تعاون فراہم کیا، انکے لئے فنڈ مہیا کئے اور یہاں تک کہ  جب یہ پاکستانی افواج کے ہاتھوں جہنم رسید ہوئے تو انہیں شہید کہا گیا اور اس کے ساتھ جو جوان انکے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے انہیں کہا گیا کہ شہید نہیں ہیں بلکہ ہلاک ہوئے  ہیں۔ اس پر نہ صرف پوری پاکستانی قوم سراپا احتجاج  بنی بلکہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ فوج کے عوامی رابطے کے شعبے نے اس کا نوٹس لیا اور جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس پر معافی مانگے۔ افسوس کہ نہ انہوں نے معافی مانگی اور نہ ہی آئی ایس پی آر نے اپنے مطالبے کو دھرایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا یہ یقین او رپختہ ہوگیا کہ افواج پاکستان میں ابھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ان دہشتگردو‎ں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور دوسری جانب جماعت اسلامی اور اسکے ممدوح دہشتگردوں کے حوصلے اور بلند ہوگئے جس کا اظہار لاہور میں منور حسن کی تقریر سے ہوتا ہے جس میں اس نے  ببانگ دہل فساد کرنے اور لوگوں کو قتل کرنے کی ترغیب دی۔
ہم تمام اہل قلم سے، ذرائع ابلاغ کے مالکان اور اینکرز سے اور حالات کا تجزیہ پیش کرنے والے صحافیوں سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اسے پورا کرنے میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی اپنی تحریر و گفتگو میں تنگ نظری اور ذاتی پسند و نا پسند کو ایک طرف رکھتے ہوئے بے لاگ تبصرے کریں اور اگر کسی نے اچھا کام کیا ہے تو اس پر اسکی تعریف بھی کردیا کریں۔