Monday, November 24, 2014

دھشتگردی کے خلاف جنگ میں ایم کیو ایم کا کردار اور تنگ نظر صحافت


الحمد اللہ قحط الرجال کے اس دور میں بھی ہمارے ملک میں ایسے  دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو دہشتگردی کے خلاف اپنے قلم کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر نا صرف خوشی ہوتی ہے بلکہ ایک گونہ اطمینان بھی ہوتا ہے۔  لیکن افسوس  کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں کئی دانشور ایسے بھی  ہیں جو دہشتگردی کے خلاف لکھے گئے اپنے  کالم یا مضامین میں دہشتگردی کے خلاف ایم کیو ایم کے کردار کو جان بوجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگر ایک مشترکہ دشمن کا سامنا کرتے ہوئے بھی ہم اپنی پسند اور ناپسند کا خیال رکھتے رہے اور تنگ نظری سے کام لیتے رہے تو ہم تو شائد کبھی کامیاب نہ ہو سکیں لیکن دشمن ضرور ہم پر حاوی ہوجائے گا ۔ ہم ایسے تمام صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور کالم نویسوں سے گذارش کریں گے کہ وہ اپنی تحریروں میں دہشتگردی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے کردار کو  ضرور سراہیں۔
ایسے تمام لکھنے والے اور ٹی وی چینلز پر تجزیہ کرنے والے صحافیوں کو یہ بات بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف سب سے توانا اور بلند آواز متحدہ قومی مومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین  کی ہی رہی ہے ۔ انہیں یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ  اس آواز کو بلند کرنے کی پاداش میں ایم کیو ایم کو اپنے کارکنان، ووٹروں اور اپنے حامی عوام کے جان و مال کےناقابل تلافی نقصانات برداشت کرنےپڑے ہیں۔ گذشتہ انتخابات کے موقعے پر متحدہ قومی موومنٹ کو انتہائی مشکل حالات میں اپنی  انتخابی مہم چلانا پڑی اوردہشتگردوں نے اسکے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنایا اور کئی کارکنان کو شہید کردیا گیا۔ آفرین ہے متحدہ کے کارکنان اور عوام کو جو اس کے باوجود دہشتگردی کے خلاف ڈٹے رہے اور انہوں نے ان   دہشتگردوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا۔
یہ تمام واقعات ملکی وغیر ملکی ذرائع ابلاغ پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں لہذا  ان سے صرف نظر کرنے سےاپنا قد تو کم کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے متحدہ کے دہشتگردی کے خلاف کردار کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اور ایسی کوئی  دانستہ یا نا دانستہ کوشش ان دہشتگردوں کو ہی بڑھاوا دینے کا سبب بن سکتی ہے جس کا نتیجہ کسی ایک کو نہیں بلکہ اس پوری قوم کو بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر آنے والی کئی نسلوں کو بھگتنا ہوگا جن میں ان لوگوں کے بھی بچے شامل ہونگے جو دہشتگردی کی جنگ میں تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کے کردار کو کم  کرکےاور کسی کے کردار کو بڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔ لہذا یہ ہمارا آپ کا اور ہم سب کا فرض ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ کو مکمل یکجہتی کے ساتھ اور آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لڑیں تاکہ کام یابی بالآخر ہمارا مقدر ہو۔
ایک اور بات جو بہت ضروری ہے وہ یہ کہ دہشتگردی کے خلاف ذرائع ابلاغ کو اپنا مصلحت پسندانہ رویہ ترک کردینا چاہئے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ دہشتگردوں کی سرپرستی کررہا ہے تو اسکے خلاف تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس گروہ یا شخص کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ ایسے گروہوں کے حق میں کسی بھی تحریر و تقریر کو ہرگز اپنے اخبار یا چینل پر جگہ نہیں دینی چاہئے اور کھل کر انکی مذمت کی جانی چاہئے اور نہ ہی انکے نقطہ نظر کو ذرائع ابلاغ میں جگہ ملنی چاہئے۔ ہم ماضی میں بھی دیکھتے رہے ہیں اور اب بھی دیکھ رہے ہیں کہ جماعت اسلامی نے نہ صرف دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو اپنی صفوں میں جگہ دی بلکہ اپنی تحریر و تقاریر میں انکی کارروایئوں کی کھل کو حمایت بھی کرتی رہی۔ اس جماعت نے اپنے گھروں میں انہیں پناہ دی،  غیر انسانی سرگرمیوں کیلئے انہیں اپنا  بھرپور تعاون فراہم کیا، انکے لئے فنڈ مہیا کئے اور یہاں تک کہ  جب یہ پاکستانی افواج کے ہاتھوں جہنم رسید ہوئے تو انہیں شہید کہا گیا اور اس کے ساتھ جو جوان انکے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے انہیں کہا گیا کہ شہید نہیں ہیں بلکہ ہلاک ہوئے  ہیں۔ اس پر نہ صرف پوری پاکستانی قوم سراپا احتجاج  بنی بلکہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ فوج کے عوامی رابطے کے شعبے نے اس کا نوٹس لیا اور جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس پر معافی مانگے۔ افسوس کہ نہ انہوں نے معافی مانگی اور نہ ہی آئی ایس پی آر نے اپنے مطالبے کو دھرایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا یہ یقین او رپختہ ہوگیا کہ افواج پاکستان میں ابھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ان دہشتگردو‎ں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور دوسری جانب جماعت اسلامی اور اسکے ممدوح دہشتگردوں کے حوصلے اور بلند ہوگئے جس کا اظہار لاہور میں منور حسن کی تقریر سے ہوتا ہے جس میں اس نے  ببانگ دہل فساد کرنے اور لوگوں کو قتل کرنے کی ترغیب دی۔
ہم تمام اہل قلم سے، ذرائع ابلاغ کے مالکان اور اینکرز سے اور حالات کا تجزیہ پیش کرنے والے صحافیوں سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اسے پورا کرنے میں کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی اپنی تحریر و گفتگو میں تنگ نظری اور ذاتی پسند و نا پسند کو ایک طرف رکھتے ہوئے بے لاگ تبصرے کریں اور اگر کسی نے اچھا کام کیا ہے تو اس پر اسکی تعریف بھی کردیا کریں۔

No comments:

Post a Comment