میڈیا پر پیسے کھانے کا الزام! حقیقت حال کیا ہے
عمران خان نے تابڑ توڑ الزامات لگانے کی اپنی خو کو قائم
رکھتے ہوئے اس بار ذرائع ابلاغ کو اپنا ہدف بنایا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے خفیہ
ایجنسیوں کے فنڈ سے دو ارب روپے کی رقم تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنے کیلئے
میڈیا کو فراہم کی۔ حسب عادت عمران خان نے نہ تو کسی کا کھل کرنام لیا اور نہ ہی
اپنے الزام کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے کسی قسم کا کوئی ثبوت فراہم کیا ۔
یہ عمران خان کا ایک
دلپسند مشغلہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین پر الزامات لگاتے ہیں اور ان الزامات
کا نہ کوئی ثبوت پیش کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے
الزام کےجھوٹا ثابت ہوجانے پر کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ
انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ان پر قائم رہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ نہ تو کسی قسم کے
اخلاقی تقاضوں کی پروا کرتے ہیں اور نہ ہی
اس عادت کے باعث اپنی گرتی ہوئی ساکھ کا ادراک کرپاتے ہیں۔ عمران خان کی یہ
عادت انہیں اب سے نہیں بلکہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل شرمندہ کرتی آ رہی ہے لیکن
ایسا لگتا ہے کہ انہیں شرم وغیرہ جیسی چیزوں سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا ہے۔ ماضی
میں عمران خان ملک کی انتہائی محترم شخصیت متحدہ قومی موونٹ کے قائد الطاف حسین پر
نہ صرف الزامات لگاتے رہے بلکہ ان الزامات پر اصرار کرتے ہوئےانہیں عدالتوں میں سچ
ثابت کرنے کے دعوے بھی کرتے رہے لیکن نہ تو وہ اپنے دعوؤں کو ہی ثابت کر سکے اور
نہ ہی انکے جھوٹا ثابت ہونے پر کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار کرنے کی اخلاقی جراءت ہی
اپنے اندر پیدا کر سکے ۔ شائد انکی مرضی ہی نہ تھی کہ وہ اپنے اندر ایسی کسی چیز
کو پیدا ہونے دیں ۔
دوسروں پر الزام لگانےوالے عمران خان کو ماضی کی کئی باتیں
یاد ہیں جن میں ورلڈکپ میں پاکستان کی فتح بھی شامل ہے جسے وہ انتہا درجے کی
ڈھٹائی کے ساتھ اپنےذاتی کارنامے کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ بہت سی باتیں بھول بھی جاتے ہیں جنہیں
یاد دلانا ضروری ہے۔ انہیں یاد ہونا چاہئے کہ اپنے کرکٹ کے زمانے میں ان پر منشیات
کی اسمگلنگ کا الزام لگا تھا اور یہ الزام لگانے والے نے لگی لپٹی نہیں رکھی تھی بلکہ
کھل کر عمران خان کا نام لیا تھا۔ اس کی پاداش میں عمران خان نے جو اس وقت بھی اتنے ہی ڈکٹیٹر ہوا کرتے تھے جتنے آج ہیں بجائے اسکے کہ ان الزامات کا دفاع کرتے اس
بہترین کھلاڑی اور انتہائی معصوم شخص کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا تھا اور اس کا
کرکٹ کیریئر تباہ کر دیا تھا ۔
شائد عمران خان اس بات کو بھی بھلا دیتے ہیں کہ ان پر ایک
خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے اور اس تعلق کے نتیجے میں ایک بچی کا باپ
بننے کا الزام بھی ہے اور جو ایک ایسے ملک کی عدالت نے درست قرار دیا ہے جس کا
عدالتی نظام بہر حال ہمارے عدالتی نظام سے بدرجہا بہتر ہے۔ عمران خان نے اس الزام
کا کبھی بھی عدالت میں جا کر دفاع نہیں کیااور نہ ہی کبھی وجہ بتائی کہ آخر وہ
کیوں اس الزام کے خلاف عدالت میں پیش نہیں ہورہے ہیں۔
یہاں ہم عمران خان میں پائی جانے والی ایسی ہی دوسری
کئی'خوبیوں' کا ذکر نہیں کریں گے لیکن اس دفعہ جو الزام انہوں نے میڈیا پر لگایا
ہے اس کا جائزہ ضرور لیں گے۔ عمران خان کا
کہنا ہے کہ نواز حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کو دو ارب روپے کی رقم عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کیلئے فراہم کی
ہے۔ انہوں کہا کہ یہ رقم صحافیوں اورمیڈیا ہاؤس مالکان کو ادا کی گئی۔ مقصد یہ تھا
کہ کالم نویسوں، صحافیوں، اینکرز اور تجزیہ کاروں وغیرہ کو رقوم دے کر ان سے حکومت
کے حق میں اور عمران خان کے خلاف کالم
تحریر کروائے جایئں، ٹی وی چینلز پر تجزیہ کرنے والوں سے مخالفانہ تجزیئے کروائے
جایئں، اینکرز سے حسب مرضی کام لیا جائے تاکہ عمران خان کی جدوجہد کو سبوتاژ کیا
جا سکے۔ سادہ سے الفاظ میں صحافی برادری پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نےرقم
لیکر اپنے ضمیر فروخت کردیئے ۔
ہمیں یہاں یہ دیکھنا ہے کہ آیا صحافی واقعی ضمیر فروشی کرتے
ہیں یا یہ الزام ہی ہے! افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صحافیوں کی ایک بہت بڑی
تعدادکے دیانتدار ہونے کے باوحود اس برادری پر ان لوگوں کا غلبہ ہے جن کی تعداد تو
کم ہے لیکن یہ اپنے ضمیر بڑی آسانی سے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ بڑی
خوشی سے فروخت کردیا کرتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جو اپنے اوپر
برائے فروخت کا کتبہ ہمیشہ سجا کر رکھتے ہیں اور اسے بھی کاروبار کا ایک حصہ ہی
سمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنے دعوے کے ثبوت کیلئے کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ اخبارات
اور ٹی وی کے پروگرام اپنے خلاف آپ ثبوت ہیں۔ آپ کی توجہ کیلئے ایک مثال پیش کرتا
ہوں۔ ان دنوں جنگ گروپ اور عمران خان کے درمیان جنگ چل رہی ہےلیکن اس سب کے باوجود
اگر غور کریں تو اب بھی جیو ٹی وی اور جنگ اخبار دونوں ہی عمران خان کو اسکے جثے
سے بڑا حصہ دے رہے ہیں۔جس ٹی وی چینل پر اور اسکے متعلقہ اخبار میں کچھ دانشور بلکہ
انہیں دانشخور کہنا زیادہ مناسب ہوگااس بات پر اعتراض کررہے ہوتے ہیں کہ ایک لیڈر کے ایک ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس اور
خطابات براہ راست نشر کئے جاتے ہیں وہ اس
وقت آنکھیں میچ کر رکھتے ہیں جب انکے ہی دفاتر پر پتھراؤ کرنے والےاور انہیں ہی
گالیاں دینے والے ، فرعون کا خطاب دینے والے
خان صاحب کو اتنی زیادہ کوریج دی
جاتی ہے کہ جس کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہوگا تو
عوام نابینا تو نہیں ہیں اور نہ ہی عقل سے کورے ہیں کہ یہ بات نہ سمجھ
پایئں گے کہ اندرون خانہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور پیسے کی خاطر گالیاں
کھاکر بے مزہ نہیں ہوتے۔
کچھ ٹی وی چینلزاور چند صحافی تو اپنی اس گھٹیا حرکت میں
اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ اب انہوں نے اپنی
لغت میں سے غیرت، حمیت جیسے الفاظ کو متروک قرار دے کر نکال باہر کیا ہے۔ ایسے ہی
لوگوں میں سے ایک وہ بھی ہیں جن کے چینل پردہشتگردوں نے حملے کئے تو بجائے ثابت
قدم رہ کر حق پرست صحافت کی اعلی مثال قائم
کرنے کے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دوزانو ہوکر معافی مانگ کر یہ وعدہ کر بیٹھے کہ
ہم آپ کو آپکی حسب مرضی کوریج دیں گے۔
اگر ہم بکاؤصحافیوں کی فہرست بنانے بیٹھیں تو یہ فہرست اتنی طویل ہوگی کہ نہ تو ہمارے لئے اسے ضبط تحریر میں لانا آسان ہوگا اور نہ قاری کیلئے اسے ایک یا دو نشستوں میں پورا ملاحظہ کرلینا ہی ممکن ہوگا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ غور سے ٹی وی چینلز پر ہونے والے پروگرام دیکھیں، ان کے میز بانوں کے رویئے، ان کے الفاظ اور جملوں کے استعمال کو غور سے پرکھیں ، ان کا موازنہ انکے پچھلے پروگراموں سے کریں اور یہ دیکھیں کہ یہ پروگرام کسی اور مہمان کے ساتھ کس طرح کیا جاتا ہے تو آپ پر خود ہی بہت سی باتیں کھلتی چلی جایئں گی۔ اور ان سب کا اگر آپ بغور تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالنے میں بھی کامیاب ہوئے تو وہ نتیجہ بس ایک ہی ہوگا کہ یہ صحافی اور یہ انکے ادارے صرف اور صرف پیسے کے بجاری ہیں۔ پیسے دو ،کوریج لو اور جتنا گڑ ڈالتے جاؤ اتنا میٹھا ہوتا جائے گا۔
اگر ہم بکاؤصحافیوں کی فہرست بنانے بیٹھیں تو یہ فہرست اتنی طویل ہوگی کہ نہ تو ہمارے لئے اسے ضبط تحریر میں لانا آسان ہوگا اور نہ قاری کیلئے اسے ایک یا دو نشستوں میں پورا ملاحظہ کرلینا ہی ممکن ہوگا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ غور سے ٹی وی چینلز پر ہونے والے پروگرام دیکھیں، ان کے میز بانوں کے رویئے، ان کے الفاظ اور جملوں کے استعمال کو غور سے پرکھیں ، ان کا موازنہ انکے پچھلے پروگراموں سے کریں اور یہ دیکھیں کہ یہ پروگرام کسی اور مہمان کے ساتھ کس طرح کیا جاتا ہے تو آپ پر خود ہی بہت سی باتیں کھلتی چلی جایئں گی۔ اور ان سب کا اگر آپ بغور تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالنے میں بھی کامیاب ہوئے تو وہ نتیجہ بس ایک ہی ہوگا کہ یہ صحافی اور یہ انکے ادارے صرف اور صرف پیسے کے بجاری ہیں۔ پیسے دو ،کوریج لو اور جتنا گڑ ڈالتے جاؤ اتنا میٹھا ہوتا جائے گا۔
No comments:
Post a Comment